ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہندو مہا پنچایت روکنے اتراکھنڈ کے روڑکی میں دفعہ 144 نافذ

ہندو مہا پنچایت روکنے اتراکھنڈ کے روڑکی میں دفعہ 144 نافذ

Thu, 28 Apr 2022 10:56:12    S.O. News Service

دہرادون، 28؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی)  اتراکھنڈ میں روڑکی کے قریب موضع دادا جلال پور میں جہاں چہارشنبہ کو ہندو مہا پنچایت ہونے والی تھی‘ دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کردیئے گئے اور مہاپنچایت سے جڑے 33  افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی۔ اس موضع میں 16  اپریل کو ہنومان جینتی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔

 سپریم کورٹ نے کل اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری سے کہا تھا کہ وہ آن ریکارڈ کہیں کہ روڑکی دھرم سنسد میں کوئی بھی ناگوار بیان بازی نہیں ہوگی ورنہ ملک کی سب سے بڑی عدالت‘ ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں کو نفرت بھڑکانے والی تقاریر کے لئے ذمہ دار ٹھہرائے گی۔ ہری دوار کے ضلع مجسٹریٹ (کلکٹر) ونئے شنکر پانڈے نے کہا کہ منگل کی شام موضع دادا جلال پور اور اس کے اطراف 5 کیلو میٹر کے علاقہ میں امتناعی احکامات نافذ کردیئے گئے تاکہ ہندو مہا پنچایت منعقد ہی نہ ہوسکے۔

اس سے جڑے 33  افراد کو بطور احتیاط حراست میں لیا گیا۔ حراست میں لئے گئے افراد میں کالی سینا کا ریاستی کنوینر دنیش آنند بھارتی شامل ہے جس نے ہندو مہا پنچایت منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے 6 حامیوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) یوگیندر سنگھ راوت نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قیمت پر ہندو مہا پنچایت ہونے نہیں دی جائے گی۔ دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

 صورتِ حال پر نظر رکھنے علاقہ میں بھاری فورس تعینات کردی گئی۔ گزشتہ برس دسمبر میں ہری دوار میں منعقدہ سہ روزہ دھرم سنسد قومی سرخیوں میں آئی تھی کیونکہ اس میں ایک فرقہ کے خلاف نفرت بھڑکانے والی تقاریر کی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ نے منگل کے دن تشویش ظاہر کی کہ اس کی طرف سے رہنمایانہ خطوط جاری ہونے کے باوجود ملک میں نفرت بھڑکانے والی تقاریر کا سلسلہ جاری ہے۔ سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ تدارکی اقدامات کریں۔


Share: